تشبیہ
لفظ 'تشبیہ' کا مادہ 'شبہ' ہے جس کے معنی مماثلت یا مشابہت کے ہیں۔
تعریف: تشبیہ کا لغوی معنی ہے: ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دینا۔ اصطلاحی معنی: علمِ بیان کی رو سے کسی ایک چیز کو مشترک وصف یا خوبی پانے کی بنا پر دوسری کسی چیز کے مانند (کی طرح) قرار دینا، جبکہ وہ مشترک خوبی دوسری چیز میں پہلی کی نسبت زیادہ پائی جائے، تشبیہ کہلاتی ہے۔
مثال:
میرا اپنا چاند کی طرح خوبصورت ہے۔
نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے
پگھلی اک گلاب کی سی ہے
تشبیہ کی مزید مثالیں:
1۔ سلطان شیر کی طرح بہادر ہے۔
2۔ کریم بھیڑ کی طرح بزدل ہے۔
3۔ اسلم حاتم کی طرح سخی ہے۔
4۔ زید کوے جیسا سیاہ ہے۔
وضاحت: ان مثالوں میں سلطان کو شیر، کریم کو بھیڑ، اسلم کو حاتم اور زید کو کوے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شیر کی بہادری، بھیڑ کی بزدلی، حاتم کی سخاوت سے کون واقف نہیں، اور کوّے کو کسی کلام میں سیاہی کے لیے مشہور عالم شیر، بھیڑ، حاتم کو ان کی مشترک خوبیوں کی بنا پر مثال بنا کر اردو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے مثالِ اردو قرار دیا گیا ہے۔
کیوں اہم ہے: تشبیہ اردو شاعری اور نثر کا بنیادی علمِ بیان ہے جس سے کلام میں خوبصورتی اور تاثیر پیدا ہوتی ہے، اور یہ استعارہ سمجھنے کی بنیاد بھی ہے۔