مطلع
تعریف: مطلع کے لغوی معنی 'طلوع ہونے کا مقام' یا 'سورج یا چاند کے نکلنے کی جگہ' کے ہیں۔
شاعری کی اصطلاح میں غزل اور قصیدے کا پہلا شعر، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، 'مطلع' کہلاتا ہے۔
اہم اصول: اگر کسی غزل کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ نہ ہوں تو اُسے غزل کا پہلا شعر تو کہا جائے گا مگر مطلع نہیں کہا جائے گا۔ ایک غزل میں ایک سے زیادہ مطلع بھی آ سکتے ہیں، جنہیں 'مطلعِ اول'، 'مطلعِ ثانی'، 'مطلعِ ثالث' وغیرہ کہا جاتا ہے، اور ان تمام مطلعوں کے بعد آنے والے شعر کو 'حسنِ مطلع' کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
1۔
کون دنیا میں با وفا نکلا؟
یہ تمہاری زباں سے کیا نکلا؟
وضاحت: اس شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں۔
2۔
دل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
وضاحت: اس شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں۔
3۔
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
وضاحت: اس شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں۔
کیوں اہم ہے: مطلع غزل کے آغاز کا تعین کرتا ہے اور اس کی قافیہ بندی پوری غزل کے لیے نمونہ فراہم کرتی ہے۔