قافیہ
تعریف: قافیہ کے لفظی معنی 'پیچھے آنے والا' یا 'دَر پے آنے والا' کے ہیں۔
شاعری کی اصطلاح میں مختلف الفاظ کی اُس شکل میں جو ہم وزن ہونے کے ساتھ چند حروف میں شعر یا مصرعے کے آخر میں (ردیف سے پہلے) بار بار آئیں، قافیہ کہلاتی ہے۔ غزل کے لیے قافیہ لازم ہے۔ ردیف کی صورت میں مصرعے کے آخر میں آتی ہے، مگر ردیف کے بغیر غزل لکھی جا سکتی ہے، قافیہ کے بغیر نہیں۔
مثالیں:
1۔
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
وضاحت: اس شعر میں 'امید' اور 'صورت' بلحاظِ (بر، نظر) قافیہ ہیں۔
2۔
اب تو کچھ اور ہی اجاز دکھایا جائے
شام کے بعد بھی سورج نہ چھپایا جائے
وضاحت: اس شعر میں 'دکھایا' اور 'چھپایا' قافیہ ہیں۔
کیوں اہم ہے: قافیہ اور ردیف کا فرق سمجھنا ضروری ہے — ردیف وہ الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد بار بار بغیر کسی تبدیلی کے دہرائے جاتے ہیں، جبکہ قافیہ ہر شعر میں بدلتا رہتا ہے۔ قافیے کے بغیر کوئی غزل مکمل نہیں ہو سکتی، اس لیے یہ غزل کی بنیادی ساخت کا لازمی جزو ہے۔